Wednesday, 25 May 2011

’یہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ مذاق ہے‘

سماعت دو ہفتوں تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے
حکومتِ پاکستان نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے جانے والے کمیشن کی سفارش پر ان کے اہلِ خانہ کو ساٹھ ہزار روپے سالانہ کے حساب سے امدادی رقم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بات ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا نے جمعرات کو لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران بتائی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے اس بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا رقم کی ادائیگی لواحقین کو رواں سال سے شروع کی جائے گی یا پھر جس وقت سے یہ افراد لاپتہ ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کا کہنا تھا کہ اگرچہ ملک کی اقتصادی صورت حال تسلی بخش نہیں ہے لیکن وہ ذاتی حیثیت میں سیکرٹری خزانہ سے درخواست کریں گے کہ اس رقم میں اضافہ کیا جائے۔
مقدمے کی سماعت کرنے والے دو رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کی داد رسی کے لیے اربوں روپے کے زکٰوۃ فنڈز کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سماعت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی طرف سے لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں بنائے جانے والی کمیشن کی ایک عبوری رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔
تین نومبر سنہ دوہزار سات کے بعد جب سپریم کورٹ کے ججز کو گھروں میں نظر بند کیا گیا تو اُس وقت اس مقدمے میں پیش رفت نہیں ہو سکی
جسٹس جاوید اقبال
اُنہوں نے کہا کہ آٹھ افراد سے متعلق کمیشن اپنی حتمی رپورٹ جون میں پیش کردے گا۔ ان میں مسعود جنجوعہ، غلام مصطفیٰ، عتیق الرحمنٰ، محمد اعظم، فضل الرحمن، مزمل شاہ، عرفان آفریدی اور رحمت دین شامل ہیں۔
یہ افراد گُزشتہ چھ سال سے لاپتہ ہیں اور ان سے متعلق ہومین رائٹس کمیشن اور ڈیفنس آف ہومین رائٹس کا کہنا ہے کہ یہ افراد فوج کی خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے لاپتہ افراد کے معاملے کو اس لیے اٹھایا ہے تا کہ ان افراد کے ورثاء در بدر کی ٹھوکریں نہ کھاتے پھریں۔ انہوں نے کہا کہ تین نومبر سنہ دوہزار سات کے بعد جب سپریم کورٹ کے ججز کو گھروں میں نظر بند کیا گیا تو اُس وقت اس مقدمے میں پیش رفت نہیں ہو سکی۔
سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کا مقدمہ ابتدا میں ان افراد کے اہلخانہ لائے جن کے قریبی رشتہ دار مذہبی شدت پسندی میں کسی نہ کسی طرح مبینہ طور پر شریک ہونے کی بنا پر غائب کئے گئے تھے۔۔
لیکن بہت بعد میں بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے سیاسی کارکنوں اور دیگر افراد کے واقعات کو بھی اس میں شامل کیا گیا۔ اب صورتحال بلوچستان کے ضمن میں بہت پیچیدہ ہوگئی ہے کیونکہ وہاں سے غائب ہونے والے افراد میں سے درجنوں کی مسخ شدہ لاشین مل چکی ہیں۔
کلِک سپریم کورٹ میں بلوچستان کی نمائندگی کرنے والے صوبے کے ایڈوکیٹ امان اللہ کندرانی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں بلوچستان کے لاپتہ افراد کا معاملہ بھی زیر غور ہے لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ جو رقم لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو دینے کی بات ہو رہی ہے اس میں بلوچستان کے افراد بھی شامل ہیں یا نہیں۔
کلِک دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان بلوچستان چیپٹر کے سربراہ ایڈوکیٹ عبید طاہر کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ ’مذاق‘ کے مترادف ہوگا۔
سماعت کے دوران جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
فائل فوٹو، لاپتہ افراد کے لواحقین
لاپتہ افراد کے لواحقین متعدد بار اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کر چکے ہیں
اُنہوں نے کہا کہ عدالت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جس سے شدت پسندوں کو کوئی رعایت ملتی ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافے کی خبروں میں پروپیگینڈا زیادہ دیکھائی دیتا ہے۔
عدالت نے انفرادی درخواستوں کی بھی سماعت کی عدالت کا کہنا تھا کہ جن افراد کو اغوا برائے تاؤان یا جائیداد کے تنازعے پر اغوا کیا گیا ہے اُن کے نام بھی لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس حوالے سے لاپتہ افراد کی تیار کی جانے والی فہرست پر دوبارہ نظرثانی کی جائے۔
صوبہ بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صوبہ میں ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک ہونے والے افراد کے ورثاء کو معاوضہ ادا کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے ان مقدمات کی سماعت کے دوران پولیس افسران کی عدالت میں موجودگی کو مستثنیٰ قرار دے دیا۔ ان درخواستوں کی سماعت دو ہفتوں تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔